Bad Shakal Shahzada-Kids Story

Bad Shakal Shahzada-Kids Story | Article No. 9

In this gripping tale of succession and unexpected twists, “Bad Shakal Shahzada-Kids Story“, a king must make the difficult decision of choosing one of his sons to take the throne. While the elder son appears to be the obvious choice, the younger son, who is black in color but exceptionally clever and wise, proves to be a formidable contender. Join us on a journey of discovery and intrigue as we witness the battle for the crown unfold in unexpected ways. Urdu World Pk is the platform where you can find the same interesting story, so be connected with us.

Bad Shakal Shahzada-Kids Story

Bad Shakal Shahzada-Kids Story

ایک شہزادہ بدصورت تھا اور اُس کا قد بھی چھوٹا تھا۔ اُس کے دوسرے بھائی نہایت خوبصورت اور اچھے ڈیل ڈول کے تھے۔ ایک بار بادشاہ نے بدصورت شہزادے کی طرف ذلّت اور نفرت کی نظر سے دیکھا۔ شہزادے نے اپنی ذہانت سے باپ کی نگاہ کو تاڑ لیا اور باپ سے کہا”اے ابّا جان! سمجھ دار ٹھگنا لمبے بیوقوف سے اچھا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ جو چیز دِکھنے میں بڑی ہے وہ قیمت میں بھی زیادہ ہو۔ دیکھیں ہاتھی کتنا بڑا ہوتا ہے ،مگر حرام سمجھا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں بکری کتنی چھوٹی ہے مگر اُس کا گوشت حلال ہوتا ہے۔

 ساری دنیا کے پہاڑوں کے مقابلہ میں طوربہت چھوٹا پہاڑ ہے لیکن خدا کے نزدیک اُس کی عزت اور مرتبہ بہت زیادہ ہے۔ کیا آپ نے سنا ہے کہ ایک دبلے پتلے عقلمند نے ایک بارایک موٹے بیوقوف سے کہا تھا کہ اگر عربی گھوڑا کمزور ہوجائے تب بھی وہ گدھوں سے بھرے ہوئے پورے اصطبل سے اچھا اور طاقتور ہوتا ہے۔

بادشاہ شہزادے کی بات سن کر مسکرایا، تمام امیر اور وزیر خوش ہوئے اور اُس کی بات سب کو پسند آئی۔ لیکن شہزادے کے دوسرے بھائی اُس سے جل گئے اور رنجیدہ ہوئے۔ جب تک انسان اپنی زبان سے بات نہیں کرتا ہے اُس وقت تک اُس کی اچھائیاں اور بُرائیاں ڈھکی چھپی رہتی ہیں۔ اسی زمانے میں بادشاہ کو ایک زبردست دشمن کا سامنا کرنا پڑا۔ جب دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے آئیں اور لڑائی شروع کرنے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے جو شخص لڑنے کے لیے میدان میں نکلا وہی بدصورت شہزادہ تھا۔ اور اُس نے پکار کر کہا: میں وہ آدمی نہیں ہوں کہ تم لڑائی کے دن میری پیٹھ دیکھ سکو۔ میں ایسا بہادر ہوں کہ تم میرا سرخاک اور خون میں لتھڑا ہوا دیکھو گے، یعنی میں دشمن سے لڑتے لڑتے جان دے دُوں گا مگر ہمت نہ ہاروں گا! جو لوگ خواہ مخواہ لڑائی پر آمادہ ہوتے ہیں وہ خود اپنے خون سے کھیلتے ہیں یعنی مفت جان گنواتے ہیں اورجولڑائی کے میدان سے بھاگ جاتے ہیں وہ پوری فوج کے خون سے کھیلتے ہیں! یہ کہہ کر شہزادے نے دشمن کی فوج پر بہت سخت حملہ کیا اور کئی بڑے بڑے بہادروں کو قتل کردیا۔ جب باپ کے سامنے آیا تو آداب بجا لایا اور کہا: اے ابّا جان! آپ نے میرے دبلے پتلے کمزور جسم کو ذلت کی نگاہ سے دیکھا اور ہرگز میرے ہنر کی قیمت کو نہ سمجھا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پتلی کمر والا گھوڑا ہی لڑائی کے میدان میں کام آتا ہے آرام اور آسائش میں پلا ہوا موٹا تازہ بیل کام نہیں آسکتا! کہتے ہیں دشمن کی فوج بہت زیادہ تھی اور شہزادے کی طرف سپاہیوں کی تعداد کم تھی کچھ نے بھاگنے کا ارادہ کیا، شہزادے نے اُن کو للکارا اور کہا، اے بہادرو! کوشش کرو اور دشمن کا مقابلہ کرو، یا پھر عورتوں کا لباس پہن لو۔ اُس کی بات سن کر سپاہیوں کی ہمت بڑھ گئی اور سب دشمن کی فوج پر ٹوٹ پڑے اور اُس کو مار بھگایا اور دشمن پر اُسی دن فتح حاصل کی۔ بادشاہ نے شہزادے کو پیار کیا اور اپنی گود میں بٹھایا۔ اور روز بروز اُس سے محبت بڑھنے لگی اور اُس کو اپنا ولی عہد بنادیا۔ 

دوسرے بھائیوں نے یہ حال دیکھا تو حسد کی آگ میں جلنے لگے اور ایک دن بدشکل شہزادے کے کھانے میں زہر ملا دیا۔ اُس کی بہن نے کھڑکی سے دیکھ لیا اور شہزادے کو خبردار کرنے کے لیے کھڑکی کے دروازے زورسے بندکیے۔ شہزادہ اُس کی آواز سے چونک پڑا اور اپنی ذہانت سے سمجھ گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے، کھانا چھوڑدیا اورکہنے لگا، یہ تو نہیں ہوسکتا ہے کہ بے ہنر لوگ زندہ رہیں اور ہنر مند مرجائیں۔ اگر ہم دنیا سے ختم ہوجائے، تب بھی کوئی شخص اُلّو کے سایہ میں آناپسند نہ کرے گا! باپ کو اِس واقعہ کی اطلاع دی گئی تو اُس نے شہزادے کے سب بھائیوں کو بلایا اُن کو مناسب سزا دی۔ اُس کے بعد ہر ایک کو اپنے ملک کا ایک ایک حصہ دے دیا۔ تاکہ آپس میں جھگڑا فساد نہ کریں۔ اِس طرح یہ فتنہ اور فساد ختم ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *