Badshah Ka Jansheen-Story in Urdu

Badshah Ka Jansheen-Story in Urdu | Article No. 3

In this gripping tale of succession and unexpected twists, “Badshah Ka Jansheen-Story in Urdu“, a king must make the difficult decision of choosing one of his sons to take the throne. While the elder son appears to be the obvious choice, the younger son, who is black in color but exceptionally clever and wise, proves to be a formidable contender. Join us on a journey of discovery and intrigue as we witness the battle for the crown unfold in unexpected ways. Urdu World Pk is the platform where you can find the same interesting story, so be connected with us.

Badshah Ka Jansheen-Story in Urdu

Badshah Ka Jansheen-Story in Urdu

بہت عرصے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا جس کے سات بیٹھے تھے ایک دن اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے لیے بیویاں تلاش کرلیں۔ اُس نے اُن سے کہا کہ وہ اپنے تیر کمان ساتھ لے جائیں اور ہوا میں تیر چلائیں وہ تیر جہاں گریں اُنہیں اُن جگہوں پر رہنے والی عورتوں سے شادی کرنی ہو گئی۔

چھ شہزادوں کے تیر دوسری بادشاہتوں میں جا کر گرے اور اُنہوں نے شہزادیوں سے شادی کر لی ۔ سب سے چھوٹا شہزادہ اتنا خوش قسمت نہیں تھا ۔ اُس کا تیر ایک جنگل میں ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی کے سامنے گرا ۔ اُس جھونپڑی میں ایک بوڑھی رہتی تھی شہزادے نے بوڑھی عورت سے پوچھا کہ آپ کی کوئی بیٹی ہے ۔ اُس نے کہا کہ اُس کی کوئی بیٹی نہیں ہے اُس نے کہا اس کے پاس ایک بندریا ہے جو اُس کے ساتھ رہتی ہے ۔ شہزادے کو بڑی مایوسی ہوئی لیکن اُس نے بندریا سے شادی کر لی ۔ کچھ عرصے کے بعد بادشاہ نے محسوس کیا کہ اُس کا آخری وقت آن پہنچا ہے ایک اسکا جانشین ہونا چاہیے ۔ اُس نے اِس مقصد کے لیے تین امتحانوں کا منصوبہ بنایا اور کہا کہ جو بھی اِن امتحانوں میں پورا اُترے گا وہ بادشاہ بن جائے گا۔

پہلے امتحان کے لیے بادشاہ نے یہ مطالبہ کیا کہ شہزادی کے ہاتھ سے بنا ہوا خوب صورت کپڑا پیش کریں یہ کپڑا اِس قسم کا ہونا چاہیے کہ جو پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو ۔ ساتواں شہزادہ اِس قدر پریشان تھا کہ وہ پلنگ پر لیٹ کر چیخنے لگا۔

 اُس کی بیوی بندریا نے اُس سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے اس نے چلا کر کہا مجھے اکیلا چھوڑ دو تم بیکار اور بدصورت چیز ہو تمہاری وجہ سے میں کبھی بادشاہ نہیں بنوں گا ۔ پھر بھی وہ بندریا اُس سے مسلسل پوچھتی رہی کہ بات کیا ہے ۔ تو بالآخر شہزادے نے وجہ بتائی کہ وہ کیوں چیخ رہا ہے بندریا نے اُس سے کہا کہ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ اِس مسئلے سے نبٹ لے گی ۔ شہزادے نے طنزیا کہا کہ تم کیا کر سکتی ہو تم تو محض ایک بندریا ہو ۔ آخر کار بادشاہ کو کپڑے پیش کرنے کا دن آپہنچا ۔ شہزادوں نے ایک بعد دیگرے کپڑے پیش کئے اور ہر کپڑا دوسرے کپڑے سے بہتر نظر آتا تھا آخری لمحے پر بندریا آئی اور اپنے کپڑے پیش کئے ۔ وہ تمام کپڑوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے وہ خالص ریشم سے بنے ہوئے تھے اور اُن پر بیش قیمت جواہرات ٹنکے ہوئے تھے ۔ سب سے چھوٹا شہزادہ ہکا بکا رہ گیا ۔ بادشاہ نے بندریا کے بنائے ہوئے کپڑوں کو سب سے اچھے کپڑے قرار دیا ۔

 اِس کے بعد بادشاہ نے دوسرا امتحان پیش کیا ۔ اُس نے کہا کہ ایک دعوت کا انتظام کرو میں تمہارے گھروں میں آوں گا کھانا کھا کر دیکھوں گا کہ کس گھر میں سب سے اچھا کھانا پکا ہے ۔ سب سے چھوٹا شہزادہ اپنے پلنگ پر جا کر لیٹ گیا اور چیخنے لگا اُس کی بیوی پوچھتی رہی کہ کیا بات ہے اور بالآخر اُس نے بتایا کہ دوسرا امتحان کیا ہے اُس نے کہا کہ جاوٴ آرام کرو اِس دعوت کا انتظام مجھ پر چھوڑ دو ۔ شہزادہ سخت تعجب میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر بندریا کس طرح اِس امتحان سے گزرے گی۔ وہ جھوٹ موٹ سوتا ہوا بن کر لیٹ گیا اور جب اُس نے سوچا کہ اب کافی وقت گزر چکا ہے وہ اُٹھا اور یہ دیکھنے گیا کہ اسکی بیوی کیا کر رہی ہے وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اسکی بیوی نے بندریا کی کھال اتار رکھی تھی جو وہ عام طور پر پہنے رہتی تھی وہ ایک انتہائی خوبصورت پری تھی ۔ اتنی خوب صورت کہ وہ اسکا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا اُس نے دیکھا کہ وہ پریشان ہے اور پریوں کو بلا رہی ہے اور اُن سب نے مل کر دعوت کی تیاری شروع کر دی ۔ جب شہزادے نے یہ دیکھا تو وہ پری کتنی خوب صورت ہے اُس نے بندریا کی کھال جلانے کا فیصلہ کیا بندریا نے اُسے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا اور وہ بہت پریشان ہوئی ۔ وہ اور دوسری پریاں غائب ہو گئیں اور دعوت کے لیے تیار کھانا چھوڑ گئیں ۔ جب بادشاہ نے ساتوں شہزادوں کی دعوتوں کے لیے تیار کئے ہوئے کھانے کا ذائقہ لیا ، تو اُس نے پری کا تیار کیا ہوا کھانا سب سے زیادہ مزیدار قرار دیا ۔ اِس کے بعد چھوٹا شہزادہ پری کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ وہ سب سے پہلے بوڑھی عورت کی جھونپڑی پر گیا ۔ جہاں وہ بندریا سے ملا تھا اور جو پری نکلی تھی جب اُس نے بوڑھی عورت سے پوچھا کہ اُس نے پری دیکھی ہے تو اُس نے کہا کہ اب وہ پری کبھی نہیں بنے گی ۔ شہزادے نے غصے میں آ کر بوڑھی عورت کو قتل کر دیا اِس سے وہ پری اِس سحر سے آزاد ہو گئی جو اُس بوڑھی عورت نے (جودرحقیقت ایک جادو گرنی تھی) اُس پر کر رکھا تھا ۔ یہ سب کچھ آخری امتحان سے ذرا پہلے بالکل وقت پر ہوا ۔ بادشاہ نے اعلان کیا تھا کہ سب شہزادے اپنی بیویوں کو اُس کے سامنے لائیں تاکہ وہ یہ انتخاب کر سکے کہ اُن میں سب سے زیادہ خوبصورت کون ہے ۔ اُس پری کو خوب صورت ترین قرار دیا گیا اور سب سے چھوٹا شہزادہ بادشاہ کا جانشین نامزد کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *