Eid Ka Tohfa-Urdu Story

Eid Ka Tohfa-Urdu Story | Article No. 10

“Eid Ka Tohfa-Urdu Story” is about a person who came to bomb a mosque but he turns and surrenders himself to the police. The “Eid Ka Tohfa” story comes under the category of Urdu Stories. Be there on Urdu World Pk for a complete story in Urdu.

Eid Ka Tohfa-Urdu Story

Eid Ka Tohfa-Urdu Story

عید کا تحفہ

ماہ شعبان کی آخری تاریخ تھی۔ریحان کی امی جان نے رمضان المبارک اور عید الفطر کی تیاری مکمل کر لی تھی۔اُنہوں نے ریحان کے لئے تین اور اُس کے ابو جان کے لئے دو جوڑے سلوا لیے تھے۔شعبان کے شروع میں خریداری کی اور درز ی کو سلائی کے لئے کپڑے دے دیے۔ یوں سارے کام آسانی سے ہو گئے۔ریحان کی عمر گیارہ سال تھی۔

عقل مند لوگ وہی ہوتے ہیں، جو وقت سے پہلے کام کرتے ہیں۔ ریحان کی امی کا کہنا تھا، جنہوں نے شعبان میں ہی سارے کام مکمل کر لیے تھے۔ اُنہوں نے مختلف لوگوں کو عید کے تحائف دینے کے لئے بیس جوڑے خرید لیے تھے۔ شام کے وقت چوکیدار کو جوڑا ملا تو وہ بہت خوش ہوا۔ گھر میں کام کرنے والی ماسی نے جوڑا لے کر خوب دعائیں دیں۔ دودھ والا جب جوڑا لے رہا تھا تو اپنے پسندیدہ رنگ کو دیکھ کر پھولا نہیں سما رہا تھا۔

وہ جمعہ کا دن تھا۔ نمازی تیزی سے مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ ایک شخص صدر دروازے سے مسجد میں داخل ہونے لگا تو ایک گارڈ نے اُسے رکنے کا اشارہ کیا۔ نور محمد نے اپنی بندوق کندھے پر لٹکا رکھی تھی۔ مشکوک شخص کی گھبراہٹ سے نور محمد اُسے دائیں طرف لے گیا۔ مشکوک شخص نے گہرے نیلے رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ گارڈ نور محمد کے اشارے پر دوسرا گارڈ مسرور بھی اُس کی طرف لپکا۔

جی نور محمدبھائی! یہ کہتے ہوئے مسرور نے مشکوک شخص کی طرف دیکھا تو اُس کے چہرے کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔ خوف کے مارے اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ”میرے․․․․میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میری تلاشی لے لو۔“مشکوک شخص نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے کہا۔ نور محمد نے تیزی سے مشکوک شخص کی تلاشی لینا شروع کی۔ تیسرا گارڈ اب دیگر نمازیوں کی تلاشی لے کر اُنھیں مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دے رہا تھا۔

اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ نور محمد نے اپنے ساتھی مسرور کو مخاطب کیا۔ ”شکل سے تو یہ․․․․“ مسرور نے اتنا کہہ کر اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ ”مشکوک تو یہ مجھے دکھائی دے رہا ہے، شناختی کارڈ دکھاؤ۔“ نور محمد نے مشکوک شخص کو گھورتے ہوئے کہا۔ ”جی․․․․جی․․․․یہ․․․․یہ․․․․ہے میرا شناختی کارڈ۔“ مشکوک شخص نے جب اپنا شناختی کارڈ نور محمد کی طرف بڑھایا تو اُس نے اُس کا نام پڑھ کر خود کلامی کی: شوکت رضا۔

جی․․․․․میرا نام شوکت رضا ہے، نہر کے قریب بستی میں میرا گھر ہے۔ شوکت رضا نے اتنا کہا تو نور محمد بولا۔ ”ٹھیک ہے تم اندر جا سکتے ہو۔“ شوکت رضا اِدھر اُدھر کچھ دیکھتے ہوئے مسجد میں داخل ہو گیا۔ وہ پہلی بار مسجد گلزار میں داخل ہوا تھا۔ ایک اہم کام اُس کے سپرد تھا۔ حکم کس کا تھا، وہ ایسا کیوں کروا رہا تھا، اُسے اِس کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ اُس کی تو دو مہینے پہلے ایک ہوٹل میں چائے پیتے ہوئے اپنے ہم جماعت راجو سے ملاقات ہوئی تھی۔ نام تو اُس کا ریاض تھا، مگر گھر اور گھر سے باہر سبھی اُسے راجو کہتے تھے۔ اُس نے قیمتی لباس پہن رکھا تھا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اُس کی نظر شوکت رضا پر پڑی۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر دیوار کے ساتھ بیٹھے شوکت کی طرف بڑھا۔ ”تم غالباً شوکت ہو۔ شوکت رضا!“ ”ہاں، میں شوکت رضا ہوں اور تم راجو ہو راجو۔ “ شوکت رضا نے راجو کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔”ہاں،میں راجو ہوں، سکول کا سب سے شرارتی اور نالائق طالب علم، ریاض احمد عرف راجو، بہت وقت گزر گیا ہے، بیس سال ہو گئے ہمیں سکول سے میٹرک کیے ہوئے۔ سناؤ کیا مصروفیات ہیں؟“ راجو یہ کہتے ہوئے شوکت رضا کے برابر میں بیٹھ گیا۔ ”ایک کمپنی میں ملازم تھا۔ کمپنی دیوالیہ ہو گئی، اِس لئے ملازمت ختم ہو گئی، اب کام کی تلاش میں ہوں۔ “ شوکت رضا نے بغیر تمہید کے ساری بات راجو کو بتادی۔ ”اب ملازمت کی فکر مت کرو، سمجھ لو تمہیں ملازمت مل گئی ہے۔“ راجو نے زور سے میز پر ہاتھ مارا تو اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں نے اُسے ناخوش گوار انداز میں گھورا۔ ”ملازمت کہاں کرنا ہو گی، کس نوعیت کا کام ہے؟“ شوکت رضا کے سوال پر راجو نے سرگوشی کے انداز میں اُسے سب کچھ بتا دیا۔

دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل فون نمبر محفوظ کر لیے۔ دو دن بعد پھر دونوں ایک ہوٹل میں بیٹھے تھے۔ راجو نے بیس ہزار روپے اُسے دیتے ہوئے مسجد گلزار کا نام بتایا۔ ”تمہیں ایک ماہ تک اُس مسجد میں باقاعدگی سے پانچوں وقت نماز ادا کرنی ہو گی، آتے جاتے ہوئے وہاں موجود گارڈز سے علیک سلیک ضرور کرنا، ممکن ہو تو اُنھیں کھانے پینے کی چیزیں بھی دینا ایسا کرنے سے وہ تم سے واقف ہو جائیں گے اور پھر․․․․“ ”اور پھر کیا؟“ شوکت رضا نے راجو کو خاموش دیکھ کر پوچھا۔

پھر وہی کام ہو گا جس کا ہمیں پیسہ ملے گا۔ راجو کی صورت اِس وقت بہت بھیانک لگ رہی تھی۔شوکت رضا نے کبھی مسجد کا رُخ نہیں کیا تھا وہ کبھی کبھی نماز جمعہ اور عیدین کی نماز ادا کرنا ہی کافی سمجھتا تھا۔ مسجد گلزار میں پہلے دن اُس کی خوب تلاشی لی گئی۔ کئی دنوں تک اُس پر کڑی نظر رکھی گئی، پھر گارڈ اُسے دیکھتے ہی اُس کی تلاشی لیے بغیر مسجد میں داخل ہونے دیتے۔ جب چند دن گزرے تو ایک دن وہ گارڈ کے لئے کینو لے گیا۔ ایک کینو نکال کر خود کھایا اور باقی کینو ڈیوٹی پر موجود گارڈز کو دے دیے۔ نور محمد نے پہلے دیکھے اور پھر مخصوص انداز میں شوکت رضا کو گھورا۔ اُس کی چھٹی حس اُسے کچھ کہہ رہی تھی، کچھ سمجھا رہی تھی۔ ”مجھے تو دال میں کچھ کا لا لگ رہا ہے،ہمیں اِس پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ نور محمد کی بات سن کر اُس کے دوستوں نے بھرپور انداز میں اُس کی تائید کی تھی۔ شوکت رضا، راجو سے مسلسل رابطے میں تھا۔ راجو اِس کے کام سے بہت خوش تھا۔ اُسے یقین تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اُنہیں اب رمضان المبارک کے شروع ہونے کا انتظار تھا۔

جب رمضان المبارک کا آغاز ہوا تو ریحان کے سکول اور ابو جان کے دفتر کے اوقات تبدیل ہو گئے۔ ریحان بارہ بجے اور ابو جان دو بجے گھر آجاتے تھے۔ ریحان دیگر نمازیوں کے ساتھ تراویح ادا کرنے کے لئے بھی ابو جان کے ساتھ مسجد گلزار جاتا۔ تراویح کے وقت تین مسلح گارڈز مسجد سے باہر اپنے فرائض نہایت چوکس طریقے سے سر انجام دیتے۔ شوکت باقاعدگی سے نماز تراویح میں آتا۔ وہ آتے ہوئے گارڈز کے لئے ٹھنڈے پانی کی بوتلیں لے کر آتا۔ اب اُسے اُمید ہو چلی تھی کہ عید پر دس لاکھ روپے اُس کی جیب میں ہوں گے۔ اب تو امام صاحب سے بھی اُس کی واقفیت ہو گئی تھی۔ نماز تراویح ادا کرنے کے بعد وہ کچھ دیر کے لئے امام صاحب کے پاس بیٹھ جاتا تھا۔ راجو نے اُسے پندرہ رمضان کے بعد کارروائی کرنے کا بتایا تھا۔ ایک رات وہ نماز تراویح پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہونے لگا تو ریحان اپنے ابو جان کے ساتھ مسجد کے صدر دروازے پر کھڑا سکیورٹی گارڈز سے باتیں کر رہا تھا۔ شوکت وہیں رک گیا۔ ریحان نے اُس کے سامنے پلاسٹک کے خوب صورت لفافے میں بند سفید رنگ کے جوڑے گارڈز کی طرف بڑھائے۔ لفافے پر لکھا تھا: ”عید کا تحفہ“ گارڈز نے شکریہ ادا کر کے یہ محبت بھرا عید کا تحفہ قبول کر لیا۔
کچھ دیر بعد شوکت مسجد میں موجود تھا۔ نماز پڑھتے ہوئے بار بار اُس کی آنکھوں کے سامنے ریحان کا گارڈز کو دیا عید کا تحفہ گردش کر رہا تھا۔ نماز پڑھتے ہوئے اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے۔ اب وہ وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اُس نے مسجد گلزار کے نمازیوں کو عید کا تحفہ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ نماز تراویح پڑھ کر اُس نے مسجد سے نکلتے ہوئے تمام گارڈز سے ہاتھ ملایا۔ اب اُس کا رُخ قریبی پولیس اسٹیشن کی طرف تھا۔ وہاں اُس نے سب کچھ انسپکٹر وسیم کو بتا دیا تھا۔ انسپکٹر وسیم نے اُس کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے اُس کی تعریف کی اور اُسے یقین دلایا کہ قانون کی مدد کرنے اور سچ بولنے پر اُس کی بھرپور مدد کی جائے گی۔ رات گئے راجو پولیس کی گرفت میں تھا۔ راجو کی ٹھکائی ہوئی تو اُس نے سب کچھ اُگل دیا۔ پولیس حرکت میں آئی اور نمازیوں کو خون میں نہلانے کا ارادہ رکھنے والے گرفتار ہو گئے۔ شوکت بھی پولیس کی حراست میں تھا۔ اِس لئے خصوصی طور پر اُسے مسجد گلزار میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت مل گئی۔ عید کے دن چار سو نمازیوں کو دیکھ کر شوکت پھولا نہیں سما رہا تھا۔ اُس نے اپنی بساط کے مطابق مسجد گلزار کے نمازیوں کو عید کا جو تحفہ دیا۔ اُس تحفہ کی وجہ سے نمازی سکون و اطمینان سے نمازِ عید ادا کر رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *