Letterbox Ka Bhoot-Story for Kids

Letterbox Ka Bhoot-Story for Kids | Article No. 11

“Explore the mysterious tale of ‘Letterbox Ka Bhoot-Story for Kids‘, featuring a ghost who resides in a letterbox. Follow his peculiar habit of reading letters for entertainment, and discover how he stumbled upon a woman’s plea for help. “Letter Box Ka Bhoot” story comes under the category of Kids’ Stories. Be there on Urdu World Pk for more stories in Urdu.

Letterbox Ka Bhoot-Story for Kids

Letterbox Ka Bhoot-Story for Kids

لیٹر بکس کا بھوت

اگر آپ کبھی سکھ نگر کی ساتویں سڑک پر جائیں تو وہاں آپ کو کوئی قابل ذکر چیز نظر نہیں آئے گی۔ وہ ایک عام سی سڑک ہے۔ کچھ بڑے گھروں کے دروازے اُس طرف کھلتے ہیں۔ جن میں پرانے درخت اور پودے لگے ہیں۔ ایک گھر کی دیوار پر بوگن ویلیا کی بیل بھی چڑھی ہے۔ جس میں گلابی پھول لگتے ہیں۔ اُس کے نیچے دیوار کے ساتھ ایک لال رنگ کا لیٹر بکس لگا ہے۔ بیل پھیل کر اس پر جھک آئی ہے۔ اب وہ بہت کم استعمال ہوتا ہے، مگر سالوں پہلے لوگ اس میں بہت خط ڈالنے آتے تھے۔
یہ اُسی دور کا ذکر ہے کہ ایک دن وہاں ایک بھوت گھومتے ہوئے آنکلا۔ پہلے وہ ایک ویران مکان میں رہتا تھا۔ اب کسی نئی جگہ کی تلاش میں تھا۔ اُسے یہ جگہ پسند آئی اور وہ یہاں رہنے لگا۔ سارا دن وہ کانٹے دار جھاڑیوں میں رہتا، لیکن رات کو سڑک پر چہل قدمی کرتا رہتا۔ وہ دن کا زیادہ تر وقت سو کر گزارتا تھا، مگر جب جاگ رہا ہوتا تو سڑک سے گزرنے والوں کو دیکھتا رہتا۔ لوگ وہاں آتے اور خط ڈال کر چلے جاتے۔ کبھی پھیری والے آوازیں لگاتے ہوئے گزرتے اور کبھی گاڑیاں آتی جاتی رہتیں۔ کچھ دن ہی گزرے تھے کہ بھوت بور ہونے لگا۔ وہ صبح سے شام تک اپنی بوریت کا حل تلاش کرتا رہا۔ پہلے اُس نے سوچا سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو تنگ کیا جائے، لیکن یہ اُسے اچھا نہ لگا، وہ ایک ہمدرد بھوت تھا۔ کسی کو تکلیف دے کر اُسے کوئی خوشی نہیں ملتی تھی۔ پھر اُسے خیال آیا چلو ہلکی پھلکی شرارت تو کی جا سکتی ہے۔ وہ اگلے دن لیٹر بکس میں گھس کر بیٹھ گیا۔ اب جوں ہی کوئی خط ڈالتا وہ اُس کے ہاتھ کو چھوتا، لوگ حیران ہو کر پیچھے ہٹ جاتے پھر وہ ڈرتے ڈرتے اندر جھانکتے، کبھی وہ خط کو واپس باہر پھینک دیتا۔ لوگ گھبرا کر اُسے اُٹھالیتے اور لیٹر بکس میں ڈال دیتے۔ وہ سمجھتے کہ ہوا سے گر گیا ہے۔ کچھ دن تو یہ سب چلتا رہا پھر بھوت کا دل اِس سے بھی اُکتا گیا اور وہ کوئی نیا کام کرنے کا سوچنے لگا۔
اچانک اُسے خیال آیا کیوں نہ خط پڑھے جائیں۔ اب جوں ہی کوئی خط لیٹر بکس میں ڈالا جاتا۔ وہ اُسے نکال کر پڑھنا شروع کر دیتا۔ خط پڑھ کر اُسے بہت لطف آتا، حالانکہ اس میں انسانوں کی عام سی باتیں ہوتی تھیں۔ کسی میں خیریت سے پہنچنے کی اطلاع ہوتی تو کسی میں شادی بیاہ کا ذکر ہوتا۔
ایک دن بھوت نے ایک خط پڑھا جو کسی عورت نے اپنے بھائی کو لکھا تھا: ”پیارے حامد بھائی! اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ یہاں بھی سب خیریت ہے۔ بس مجھے اُن روپوں کی ضرورت پڑ گئی ہے جو آپ نے ایک مہینے کے وعدے پر چھے مہینے پہلے اُدھار لیے تھے۔ مجھے وہ چالیس ہزار روپے فوراً بھیج دیں، تاکہ میں اپنا رکا ہوا کام مکمل کر سکوں۔ آپ کی بہن زرینہ۔“
خط پڑھ کر بھوت کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی وہ بڑبڑایا: ”اُدھار دے کر واپسی کی اُمید رکھنا بےوقوفی ہے۔“
پھر وہ دوسرے خط پڑھنے لگا۔ دن اِسی طرح گزر رہے تھے۔ کچھ دنوں بعد بھوت کو پھر زرینہ کا خط نظر آیا۔ اُس نے کھول کر پڑھا، لکھا تھا: ”بھائی! آپ نے خط کا جواب نہیں دیا نہ پیسے بھیجے۔ مجھے بہت ضروری چاہئیں، فوراً بھیجیں۔“ بھوت نے قہقہہ لگایا اور بولا: ”لو، اب بھائی صاحب خط کا جواب بھی نہیں دے رہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ اُدھار، تعلق کو کاٹ دیتا ہے۔“ اب وہ انتظار میں رہتا کہ زرینہ کا خط آئے، آخر پندرہ دن بعد خط آہی گیا۔ لکھا تھا: ”بھائی! آپ کیوں مجھے پریشان کر رہے ہیں۔ پیسے کیوں نہیں دیتے۔ میرے شوہر مجھ پر ناراض ہو رہے ہیں۔“ بھوت طنزاً مسکرایا اور بولا: ”لو جی یہ پیسے ڈوب گئے اور رشتے میں بھی دراڑ آگئی۔“ پھر اُسے خیال آیا ذرا دیکھوں تو کہ بھائی کیوں رقم نہیں بھیج رہے۔ اُس نے لفافے پر لکھے پتے پر نظر دوڑائی۔ وہ قریبی شہر کا تھا۔ 
اگلے دن بھوت نے اُڑان بھری اور وہاں جا پہنچا۔ جلدی ہی اُس نے حامد کا گھر تلاش کر لیا۔ وہ انسانوں کی نظروں سے غائب تھا۔ اِس لئے آسانی سے گھر میں داخل ہو گیا۔ وہاں اُسے ایک ادھیڑ عمر عورت اپنا کام کرتی نظر آئی۔ مرد کام پر گیا ہوا تھا اور بچے سکول۔ بھوت باہر آیا اور گلی کا جائزہ لینے لگا۔ گھر کے سامنے بادام کا ایک گھنا درخت لگا تھا۔ اُسے بادام بہت پسند تھے۔ وہ درخت پر چڑھا اور بادام توڑ کر کھانے لگا۔ اُسے وہ جگہ اچھی لگی اور سارا دن وہ درخت پر ہی بیٹھا رہا۔ رات ہوئی تو ایک آدمی موٹر سائیکل پر آتا نظر آیا۔ وہ گھر کے دروازے پر آکر رک گیا۔ بھوت سمجھ گیا کہ یہ حامد ہی ہے۔ جب وہ اندر چلا گیا تو بھوت بھی اُڑ کر گھر میں اُتر گیا۔ اُس نے دیکھا حامد منہ ہاتھ دھو رہا ہے، عورت کھانے کی تیاری کر رہی ہے اور بچے مزے سے کھیل رہے ہیں۔
کچھ دیر بعد سب کھانے کے لئے بیٹھ گئے۔ بیوی بولی:”تمہاری بہن کا خط آیا ہے۔ وہ پیسوں کا تقاضا کر رہی ہے۔“ یہ سن کر حامد نے منہ بنایا اور بولا: ”آج کل بہت مندہ ہے۔ میں خود پریشان ہوں۔“ ”بس خاموش رہو،خود تنگ آکر خط لکھنا بند کر دے گی۔“ بیوی فوراً بولی۔ حامد نے سر ہلایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر اُس نے جیب سے تین سو روپے نکال کر بڑے بیٹے کو دیے کہ بازار سے جا کر آئس کریم لے آئے سب نے مزے سے آئس کریم کھائی۔ بھوت نے سر ہلاتے ہوئے گھر پر نظر ڈالی۔ اُن کے رہن سہن سے لگتا تھا کہ وہ اچھا کما رہے ہیں۔ بھوت وہاں سے نکلا اور درخت پر جا بیٹھا۔ دوسرے دن جب حامد دکان جانے کے لئے گھر سے نکلا تو بھوت تیار تھا۔ وہ اُچک کر اس کے پیچھے بیٹھ گیا، دل میں کہہ رہا تھا چلو آج اِس مشینی گھوڑے کی سواری کر کے دیکھتے ہیں۔
سفر شروع ہوا۔ حامد بہت تیز موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ بھوت کو لگ رہا تھا کہ وہ ضرور کسی گاڑی کو مار دے گا یا کوئی اُس سے ٹکرا جائے گا۔ ایک بار تو سامنے سے آتے ایک تیز رفتار ٹرک کو دیکھ کر بھوت نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں، مگر وہ خیریت سے بازار پہنچ گئے۔ بھوت نے اللہ کا شکر ادا کیا اور آئندہ موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے توبہ کی۔ حامد نے اپنی دکان کھولی۔ وہ کپڑے کی دکان تھی۔ دو لڑکے ملازم بھی تھے۔ بھوت ایک کونے میں چھپا نظر رکھے ہوئے تھا۔ وقت گزر رہا تھا۔ دوپہر تک اِکا دُکا گاہک آئے، مگر شام کو کام اچھا ہوگیا۔ بھوت واپس درخت پر لوٹ گیا۔ رات کو حامد گھر آیا تو وہ بھی گھر میں داخل ہو گیا۔
کھانے کے بعد سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ حامد کی بیوی نے کہا: ”اگلے مہینے میری کزن کی شادی ہے۔ مجھے کچھ جیولری اور میک اپ کا سامان خریدنا ہے۔ مجھے پیسے چاہییں۔“ حامد نے فوراً چار ہزار روپے نکال کر دے دیے۔ ”آج کیسا کام رہا؟“بیوی نے پوچھا۔ ”مندہ ہی تھا۔“حامد نے کہا۔ ”واہ واہ․․․․․․اپنے لئے سب کچھ ہے، مگر دوسروں کے لئے بس بہانے۔ اچھا اب مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔“ بھوت بڑبڑایا۔
اگلے دن وہ پھر دکان پر موجود تھا۔ جوں ہی کوئی گاہک دکان میں آکر کپڑا دیکھتا، بھوت ہلکے سے قہقہہ لگاتا جو صرف گاہک کو سنائی دیتا۔وہ حیرت سے حامد کو دیکھتا اور واپس پلٹ جاتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ دکان دار نے اُس کا مذاق اُڑایا ہے۔ سارا دن بھوت یہی کرتا رہا بس ایک دو گاہک ہی کچھ خرید کر رخصت ہو ئے۔ حامد بہت پریشان تھا اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ دو تین دن تک یہی ہوتا رہا۔ حامد رات کو اپنی بیوی کو بتاتا کہ کاروبار روز بہ روز کم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ بھی پریشان ہو گئی تھی۔ بھوت نے ایک دن دیکھا وہ گلی میں آنے والے ہر فقیر کو خیرات دے رہی ہے اور اس سے دعا کی درخواست کر رہی ہے۔ بھوت مزے سے بادام کھا رہا تھا۔ وہ سر ہلا کر بولا: ”اچھا تو اب عملی کام کا وقت آگیا ہے۔“
جب حامد کام پر چلا گیا تو بھوت نے ایک بوڑھے فقیر کا روپ دھارا اور لاٹھی ٹیکتا، اللہ کے نام پر مدد کرو، کی صدا لگاتا گلی میں چلا آیا۔ حامد کے گھر کا دروازہ فوراً کھلا اور اُس کی بیوی نے فقیر کو دس روپے دیے۔ فقیر نے اُسے خوب دعائیں دیں۔ وہ بولیں:”بابا کھانا کھاؤ گے؟“ ”ہاں کھلادو۔“ فقیر بولا۔ کھانا کھا کر فقیر نے پھر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دیے۔ حامد کی بیوی لجاجت سے بولی: ”بابا! دعا کرو ہمارا کام اچھا ہو جائے۔ آج کل بہت مندہ ہے۔“ فقیر نے بہت دعائیں دیں پھر بولا: ”بیٹی! دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی کرنی پڑتی ہے۔ اکثر رکاوٹ تب ہوتی ہے جب ہم کسی کا کچھ روک لیتے ہیں۔ ذرا سوچو کہیں آپ نے کسی کا حق تو نہیں دبا لیا؟“ یہ کہہ کر فقیر نے اپنی لاٹھی سنبھالی اور چل دیا۔ حامد کی بیوی سوچ میں گم اُسے جاتا دیکھتی رہی۔ رات ہوئی تو حامد گھر آیا۔ کھانا کھا کر وہ باتیں کرنے لگے۔ بھوت درخت پر ہی لیٹا ہوا تھا۔ اُس کی طبیعت ٹھیک نہ تھی اُسے انسانوں کا کھانا راس نہیں آیا تھا، مگر اُس کے کان اُدھر ہی لگے تھے۔ عورت کہہ رہی تھی: ”میری سمجھ میں آگیا ہے کہ کام کیوں نہیں چل رہا۔ تم کل فوراً بینک سے پیسے نکلواؤ اور اپنی بہن کو بھیج دو۔“ حامد بولا: ”کبھی کچھ کہتی ہو اور کبھی کچھ۔ “ ”بس اب جو کہہ رہی ہوں وہ کرو۔“ بیوی بولی۔ اگلے دن بھوت نے دیکھا حامد بینک کی طرف جا رہا ہے اُس نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی اور اپنے شہر کی طرف اُڑان بھر گیا۔ اُسے یقین تھا کہ خط لکھنے والی عورت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر وہ پھر اُسی طرح خط پڑھنے لگا۔ آخر ایک دن اُسے زرینہ کا خط نظر آگیا۔ اُس نے لکھا تھا: ”بھائی ہمیشہ خوش رہیں۔ آپ نے میرا کام کر دیا، مجھے پیسے مل گئے ہیں۔ بہت شکریہ۔“ 
بھوت نے منہ بنایا اور بڑبڑایا: ”لو کام کسی اور نے کیا ہے اور شکریہ کسی اور کا ادا کیا جا رہا ہے۔ خیر ہمیں کیا۔ ہم تو بھوت ہیں۔ بھوتوں کو کسی ستائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں تو بس رات کو خالی سڑک پر چہل قدمی کرنا اچھا لگتا ہے۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *