Naik Kaam-Urdu Story

Naik Kaam-Urdu Story | Article No. 5

A moral lesson being taught in this “Naik Kaam-Urdu Story” is that a person should continue to do good deeds so that others can be inspired to do the same. Join us in this tale as we witness the power of positive actions and how they can lead to the betterment of society. Read out the complete story and be connected with us on Urdu World Pk for more Moral Stories.

Naik Kaam-Urdu Story

Naik Kaam-Urdu Story

عاصم صاحب نے دکان سے سامان لیا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے بیٹے عمر کا ہاتھ تھامے گھر جانے کے لئے مُڑے ہی تھے کہ عمر نے سامنے سے آتے ہوئے جلال صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ابو جی! دیکھیں بابو چچا جا رہے ہیں۔
جلال صاحب کی کمر ضعیفی کی وجہ سے جھک گئی تھی اور نظر بھی خاصی کمزور ہو گئی تھی ، لیکن اپنے گھر کا سودا سلف خود ہی لاتے تھے ۔
عاصم صاحب نے آگے بڑھ کر انھیں سلام کیا اور ان کے ہاتھوں سے سامان کے تھیلے لے کر خود پکڑ لیے ۔ باتیں کرتے کرتے انھیں ان کے گھر تک پہنچا دیا اور کہا:

بابو چچا!میں روزانہ دکان جاتے وقت آپ سے پوچھتا ہوا جاؤں گا ۔

 آپ کو جو بھی منگوانا ہو،میں لا دیا کروں گا ۔
جلال صاحب نے انھیں ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے ہامی بھر لی ۔
وہاں سے نکلتے ہی عمر نے پوچھا: ابو جی! بابو چچا کا گھر تو دوسری گلی میں ہے ۔ روزانہ ان کا سودا لا کر دینے میں آپ کو مشکل نہیں ہو گی؟
عاصم صاحب نے چلتے چلتے اسے دیکھا اور کہا: مشکل کیسی؟ اِسی بہانے تھوڑی چہل قدمی بھی ہو جائے گی اور بابو چچا کا کام بھی ہو جائے گا ۔ اگر ہم سب اِسی طرح ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں تو ہمارے معاشرے میں یکجہتی کی فضا قائم ہو جائے گی۔سمجھے؟

اور عمر نے اپنا گول مٹول سر ہلا دیا ۔
عمر اور اس کا بھائی نوفل تخت پر بیٹھے دادی جان سے قرآن پاک پڑھ رہے تھے ۔

برابر میں رضیہ بھی آگے پیچھے بِل بِل کر قاعدہ پڑھ رہی تھی ۔ رضیہ غریب گھر کی بچی تھی اور ان کے گھر ہلکا پھلکا کام کرنے کے لئے آتی تھی ۔ اب دادی جان نے اسے قرآن پاک سکھانے کی غرض سے قاعدہ پڑھانا شروع کیا تھا۔
سبق ختم ہوا اور رضیہ اپنے گھر چلی گئی تو نوفل نے سامنے رکھی چائے کی پیالی میں بسکٹ ڈبوتے ہوئے دادی جان سے پوچھا: دادی جان!یہ رضیہ باجی تو اتنی بڑی ہو گئیں ہیں ۔مشکل سے سبق یاد کرتی ہیں پھر بھی آپ انھیں اتنے پیار سے قاعدہ پڑھاتی ہیں ۔
دادی جان نے بات سمجھتے ہوئے کہا: بات تو آپ کی درست ہے نوفی میاں!مگر علم کسی بھی عمر میں حاصل کیا جا سکتا ہے اور قرآن پاک پڑھانا تو ویسے بھی بہت ثواب کا کام ہے۔بس ہمیں اچھائی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ٹھیک ہے نا؟
دونوں بچوں نے ایک ساتھ ہاں،میں سر ہلا دیے۔
امی نے گھر کی کیاریوں میں لگے ہوئے ”سدا بہار“ کے پودوں میں سے کچھ ٹہنیاں جڑوں سمیت نکالیں اور دو الگ الگ گملوں میں لگا دیں۔ عمر اور نوفل قریب ہی کھیل رہے تھے۔امی نے پہلے عمر کو بُلا کر کہا:”عمر بیٹا!یہ گملا برابر والے قاسم بھائی کو دے آؤ۔“
پھر نوفل سے کہا: نوفی!تم یہ گملا سامنے والی طاہرہ خالہ کے گھر پہنچا کر آؤ۔
عمر نے حیرت سے پوچھا: امی جی!آپ پڑوسیوں کو پودے دیتی ہیں۔ کیا ان پودوں سے ہمارا ماحول خوبصورت ہو جائے گا؟
امی نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے سمجھایا:

دیکھو عمر!انسان کو بس اچھے کام کرتے رہنا چاہیے، تاکہ ہماری دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی فلاح کے کاموں کی طرف راغب ہو جائیں۔ جب بہت سارے لوگ مل کر بہبود کے کام کریں گے تو ہمارا معاشرہ مثالی ہو جائے گا۔ دیکھو نا!تم لوگ بھی تو اپنی گُلک میں تھوڑے تھوڑے پیسے ڈالتے رہتے ہو۔ پھر کچھ عرصے کے بعد وہ تھوڑے تھوڑے پیسے مل کر ایک بڑی رقم بن جاتے ہیں۔

 بس اسی طرح ہمیں چھوٹے چھوٹے فلاحی کام متحد ہو کر ایک جماعت کی شکل میں کرنے چاہیے۔ اِس کا فائدہ دنیا میں بھی ہو گا اور آخرت میں بھی۔
عمر اور نوفل نے یہ باتیں غور سے سنیں اور ایک عزم کے ساتھ سر ہلا دیے۔
نوفل نے کچھ سوچتے ہوئے کہا: امی جی!آج سے میں پودوں کو پانی دیا کروں گا۔
عمر فوراً بولا: اور میں دادی جان کے پیر دبایا کروں گا۔
عاصم صاحب قریب ہی بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے ، انھوں نے کہا:پڑوسیوں کی مدد کرنا بھی نیک کام ہے ،

 یہ کون کرے گا ، بچو

دونوں نے ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے نعرہ لگایا: ہم کریں گے ، ہم کریں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *