Story in Urdu-Zainab Aur Australian Tota

Story in Urdu-Zainab Aur Australian Tota | Article No. 14

Story in UrduZainab Aur Australian Tota witnesses Zainab’s kind-heartedness as she refuses to keep birds in captivity and instead finds joy in their freedom. Join her on her journey with an Australian parrot, as she learns to appreciate the beauty of birds in their natural habitat. Be there on Urdu World Pk for the complete story.

Story in Urdu-Zainab Aur Australian Tota

Story in Urdu-Zainab Aur Australian Tota

ذینب اور آسٹریلین طوطا

دس سال کی زینب کو چڑیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ اُڑتی، پھدکتی، چہچہاتی چڑیاں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتی۔ آسٹریلین اور ہرے ہرے طوطے اسے خاص طور پر اچھے لگتے تھے۔ ایک بار اس نے اپنی امی سے کہا کہ وہ طوطا پالنا چاہتی ہے لیکن امی نے کہا کہ طوطے قید میں رہنا پسند نہیں کرتے، انہیں اپنی آزادی بہت پیاری ہوتی ہے۔ گھر کے سامنے درختوں پر بہت سی چڑیاں رہتی ہیں۔

خوب چوں چوں کرتی ہیں، انہیں دیکھا کرو۔ زینب نے امی کی بات مان لی اور طوطا خریدنے کی ضد چھوڑ دی۔اسکول سے آنے کے بعد بالکونی میں کھڑے ہو کر طرح طرح کی چڑیوں کو اور سامنے گھر والوں کے آسٹریلین طوطوں کو دیکھتی۔

ایک دن زینب شام کو کمرے میں آئی تو دیکھا ایک آسٹریلین طوطا اُس کے کمرے میں بیٹھا ہوا ہے۔

 

چھوٹا سا گرے رنگ کا، لال لال آنکھیں، پتلی سی دم تھی۔

 

وہ دم لگاتار اوپر نیچے ہلا رہا تھا۔ اس طوطے کو اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

زینب طوطے کو کمرے میں دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ بھاگ کر امی کو بلا لائی۔ انہوں نے بتایا یہ شاما ہے۔ بڑا میٹھا بولتا ہے اور خوب سیٹیاں بجاتا ہے، یہاں شاید بھٹک کر آ گیا ہے۔ چلو اسے واپس بھیج دیں، انہوں نے طوطے کو ہشکایا، تاکہ وہ دروازے سے واپس چلا جائے۔ ”یہ طوطا ہے یا اس کا بچہ؟“ زینب نے امی سے پوچھا۔

یہ فادر طوطا ہے۔ ”تب تو اسے ضرور بھیج دیجئے۔ اس کے بچے انتظار کر رہے ہوں گے۔“ زینب نے کہا اور امی کے ساتھ وہ بھی طوطے کو ہشکانے لگی۔ وہ کبھی کمرے میں لگی ٹیوب لائٹ پر بیٹھتا تو کبھی پھدک کر دیوار کی گھڑی پر کبھی پنکھے کے پروں پر اور کبھی بڑی سی پینٹنگ کے فریم پر بیٹھ جاتا۔ زینب اور ان کی امی نے لاکھ کوشش کی لیکن وہ دروازے کی طرف گیا ہی نہیں۔

دروازہ بالکونی پر کھلتا تھا اور وہ ادھر ہی سے آیا تھا۔

ایسا کرتے ہیں فی الحال اسے یہی چھوڑ دیتے ہیں۔ صبح اسے راستہ مل جائے گا۔ امی یہ کہہ کر باورچی خانے میں چلی گئیں۔ ”ٹھیک ہے۔ آج رات یہ ہمارا مہمان رہے گا۔“ زینب خوش ہو گئی۔ رات کو اُس کے ابو گھر آئے تو انھوں نے کوشش کر کے طوطے کو پکڑا اور زینب کو چھت پر رکھا ہوا پنجرہ لانے کو کہا، زینب بھاگ کر گئی اور پنجرہ لے کر آئی اُس کے پاپا نے طوطا پنجرے میں ڈال دیا۔

 

تھوڑی دیر گزری تو زینب بہت پریشان ہوئی۔ اُس نے پاپا سے کہا، کہ یہ خاموش ہو کر بیٹھ گیا ہے، کیا یہ بیمار ہو گیا ہے۔ تو اُس کے ابو نے بتایا نہیں یہ اپنے جن دوستوں کو چھوڑ کر آیا ہے اُن کی وجہ سے اُداس ہے۔ ایک دو دن تک ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر زینب کو چین نہ آیا۔ آخر اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی کہ سامنے والے گھر والوں نے طوطے پال رکھے ہیں، کہیں یہ طوطا اُن کا نہ ہو، وہ پتہ کرنے اُن کے گھر گئی کہ اُن کا کوئی طوطا تو نہیں اُڑ گیا۔

تو اُنھوں نے بتایا کہ صبح ایک طوطا اُڑ گیا تھا اور اب اُس کی طوطی بہت اُداس ہے تو زینب نے اُنھیں بتایا کہ اُن کا طوطا اُس کے گھر اُڑ کر آ گیا ہے، لہٰذا وہ اپنا طوطا اُن کے گھر سے لے آئیں تھوڑی دیر بعد وہ آئے اور طوطا اپنے گھر واپس چلا گیا۔ اس طرح زینب کی کوشش سے طوطا اپنی فیملی سے مل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *